دم قبولیت
قسم کلام: اسم ظرف زمان
معنی
١ - فریاد رسی کا لمحہ، باریابی کا وقت۔ "وہ در قبولیت ہے وہ دم دم قبولیت ہوتا ہے۔" ( ١٩٧٢ء، میاں کی اٹریا تلے، ٥٠ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دَم' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے مشتق اسم 'قبول' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور ١٩٧٢ء سے "میاں کی اٹریا تلے" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - فریاد رسی کا لمحہ، باریابی کا وقت۔ "وہ در قبولیت ہے وہ دم دم قبولیت ہوتا ہے۔" ( ١٩٧٢ء، میاں کی اٹریا تلے، ٥٠ )
جنس: مذکر